Banner

انمول عرف پنکی کیس: پس منظر اور عدالتی فیصلہ

گرفتاری اور الزامات

انمول عرف پنکی کو 12 مئی 2026 کو کراچی کے گارڈن ایریا میں ایک مشترکہ پولیس اور سول انٹیلیجنس آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ کراچی میں کوکین اور دوسرے منشیات کی سپلائی کا نیٹ ورک چلا رہی تھی، اور کلفٹن، ڈی ایچ اے اور دوسرے علاقوں میں آن لائن ڈیلیوری رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی۔

پولیس نے کوکین اور دیگر منشیات کے ساتھ کیمیکلز، ایک غیر لائسنس یافتہ پستول اور ایمونیشن برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق برآمد شدہ منشیات کا کل وزن 1.54 کلوگرام اور دوسرے خام مال کا وزن 6.97 کلوگرام تھا۔ کراچی پولیس کے مطابق اس کے خلاف 14 کیسز پہلے سے موجود تھے، جن میں منشیات کے علاوہ ایک قتل کا کیس بھی شامل تھا۔ عدالت میں اس کی پولیس کے ساتھ پیشی کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس پر سندھ حکام نے انکوائری کروائی اور کچھ پولیس افسران کو معطل بھی کیا۔

نوٹ: منشیات فروش والی تفصیل پولیس اور تفتیش کاروں کا بیان ہے۔ حتمی سزا اور الزامات میں فرق ہوتا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران اس نے اپنے خلاف الزامات کو چیلنج بھی کیا۔

عدالتی بریت

13 اگست 2026 کو کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ ساؤتھ نے انمول عرف پنکی کو گزری پولیس اسٹیشن کے 3 منشیات کیسز میں بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ان کیسز میں پراسیکیوشن کا کیس سزا کے لیے کافی نہیں تھا، جبکہ دفاع کے مطابق شریک ملزمان بھی پہلے ہی بری ہو چکے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے حکم دیا کہ اگر وہ کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہے تو اسے رہا کیا جائے۔

انمول پنکی کے کسٹمرز کی تفصیل

تفتیش کاروں سے پتہ چلا کہ پنکی کے فون سے وائس میسجز اور دوسرا مواد ملا، جس میں کسٹمرز کے بارے میں معلومات موجود تھیں۔ کسٹمر بیس میں کاروباری افراد، طلباء اور نوجوان، اداکار، اداکارائیں، میڈیا پرسنز، بیوروکریٹس اور کچھ بااثر سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ذکر ہوا۔

سندھ آئی جی نے بھی کہا تھا کہ تفتیش میں مزید نمایاں نام سامنے آ سکتے ہیں، لیکن ان کے ناموں کی فہرست ابھی جاری نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا پر جو مخصوص مشہور شخصیات، سیاستدان یا تاجروں کے نام "پنکی کی کسٹمر لسٹ" کے نام سے گردش کر رہے ہیں، وہ مستند نہیں ہیں اور ان کو بغیر عدالتی ریکارڈ یا قابل اعتماد تفتیشی تصدیق کے حقیقت نہیں ماننا چاہیے۔