اہلِ بیتِ نبوت کون؟ ازواجِ مطہرات اور اہلِ کساء کا مقام
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد وآله وأصحابه أجمعين۔
تمہید
مسلمانوں کے مابین "اہلِ بیت" کا مسئلہ ہمیشہ سے علمی اہمیت کا حامل رہا ہے، لیکن افسوس کہ موجودہ دور میں اس موضوع پر ایسی تحقیقات اور آراء سامنے آ رہی ہیں جن میں اعتدال کے بجائے افراط و تفریط کا غلبہ نظر آتا ہے۔ نتیجتاً ایک عام مسلمان، جو قرآن و سنت کی روشنی میں حق بات جاننا چاہتا ہے، مختلف نظریات کے درمیان حیرت اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔
ایک گروہ کا موقف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو کلی طور پر اہلِ بیتِ نبوت سے خارج کر دیا جائے، حالانکہ قرآنِ کریم کا صریح خطاب انہی سے ہے۔
اس کے برعکس ایک دوسرا گروہ ایک نئی تقسیم پیش کرتا ہے۔ وہ "حقیقی اہلِ بیت"، "اعزازی اہلِ بیت" اور "عمومی اہلِ بیت" جیسی اصطلاحات وضع کرتا ہے۔ پھر ازواجِ مطہرات کو "حقیقی اہلِ بیت" اور حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو "اعزازی اہلِ بیت" قرار دیتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے مخصوص نظریات کی تائید میں ان نفوسِ قدسیہ کی عظمت اور ان کی خصوصی فضیلت کو بھی کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض دوسری شخصیات کو ان سے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا محبوب اور مقرب ثابت کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔
یہ دونوں رویے انصاف، اعتدال اور نصوصِ شرعیہ کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
اسی پس منظر میں مناسب محسوس ہوا کہ اس مسئلے پر چند معروضات پیش کی جائیں، تاکہ پہلے "اہلِ بیت" کے لغوی مفہوم کو واضح کیا جائے، پھر اس کے شرعی اور اصطلاحی معنی کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ امید ہے کہ اس سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہوں گی اور وہ لوگ جو رنگا رنگ تحقیقات اور متضاد بیانات کی وجہ سے ذہنی انتشار کا شکار ہیں، ان کے لیے حق بات سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
"اہل" اور "آل" کا لغوی مفہوم
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "اہل" اور "آل" دو الگ الفاظ ہیں، اگرچہ معنی کے اعتبار سے ان میں باہمی قرب پایا جاتا ہے۔
علمائے لغت کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ "آل" لفظ "اہل" ہی سے ماخوذ ہے یا مستقل لفظ ہے، لیکن اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ "اہل" عام لفظ ہے جبکہ "آل" خاص استعمال رکھتا ہے۔
لفظ "اہل" جانداروں اور بے جان چیزوں دونوں کے ساتھ استعمال ہو سکتا ہے، اور اس کا اطلاق گھر والوں، اہلِ خانہ، کسی شہر کے باشندوں، کسی علم کے ماہرین اور کسی کام کے مستحق افراد پر بھی ہوتا ہے۔
اس کے برعکس "آل" کا استعمال عموماً کسی معروف اور عظیم شخصیت کی طرف نسبت کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے عربی زبان میں اہلِ مکہ کہا جاتا ہے لیکن آلِ مکہ نہیں کہا جاتا، جبکہ آلِ محمد، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کہا جاتا ہے۔
اگرچہ دونوں الفاظ کے استعمال میں فرق ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے ان میں بڑی حد تک مشابہت موجود ہے۔ دونوں کا تعلق کسی شخصیت کے ساتھ نسب، تعلق، وابستگی یا پیروی سے ہوتا ہے۔
اسی بنا پر اہلِ بیت کا لغوی معنی ہے:
"گھر والے، اہلِ خانہ، وہ تمام افراد جو ایک گھر سے وابستہ ہوں، خواہ وہ بیوی ہو، اولاد ہو یا دوسرے متعلقین۔"
یہی مفہوم عربی لغات، مثلاً لسان العرب، تاج العروس، القاموس المحيط اور مفرداتِ راغب میں مذکور ہے۔
اہلِ بیت کا لغوی مفہوم اور ازواجِ مطہرات کی حیثیت
یہاں ایک بنیادی بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ لغوی اعتبار سے بیوی اس وقت تک شوہر کے اہلِ بیت اور اہلِ خانہ میں شامل ہوتی ہے جب تک وہ اس کے نکاح میں ہوتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے طلاق واقع ہو جائے تو وہ اس گھر کی اہلِ خانہ نہیں رہتی۔ یہ ایک عمومی اور معروف لغوی قاعدہ ہے، جسے عربی زبان اور عرفِ عام دونوں تسلیم کرتے ہیں۔
البتہ بعض لوگوں نے اسی اصول کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات پر بھی بعینہٖ منطبق کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ یہ بات درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے خصائص عطا فرمائے ہیں جو کسی اور کو حاصل نہیں۔ ازواجِ مطہرات کے بارے میں بھی قرآنِ کریم نے ایک ایسی خصوصیت بیان فرمائی ہے جو پوری امت کی کسی دوسری خاتون کو حاصل نہیں۔
اب آئیے اس مسئلے کو شرعی اور اصطلاحی اعتبار سے دیکھتے ہیں۔
آیتِ تطہیر کا سیاق و سباق
سورۂ احزاب میں آیتِ تطہیر سے قبل اور بعد کی تمام آیات کا خطاب براہِ راست ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے عظیم مقام و مرتبہ کے پیشِ نظر خصوصی احکام عطا فرمائے، کیونکہ وہ صرف عام مسلمان خواتین نہیں تھیں بلکہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج تھیں، جنہیں پوری امت کے لیے نمونہ بننا تھا۔
يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ
"اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔" (الأحزاب: 32)
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں اختیار دیا کہ اگر وہ دنیا کی زیب و زینت اور آسائش کو ترجیح دیتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دیں گے، لیکن اگر وہ اللہ، اس کے رسول اور آخرت کی کامیابی کی طالب ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عظیم اجر تیار کر رکھا ہے۔
اسی طرح انہیں متنبہ فرمایا کہ اگر وہ کسی کھلی نافرمانی کا ارتکاب کریں گی تو ان کا عذاب بھی دوگنا ہوگا، کیونکہ جس قدر مقام بلند ہوتا ہے، ذمہ داری بھی اسی قدر بڑھ جاتی ہے۔
بعد ازاں انہیں حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہیں، زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنی زینت کی نمائش نہ کریں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔
انہي احکام کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
"اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و پاکیزہ بنا دے۔"
یہ آیت اپنے سیاق و سباق کے اعتبار سے ازواجِ مطہرات ہی سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے بھی خطاب انہی سے ہے اور اس کے بعد بھی خطاب انہی سے جاری رہتا ہے۔ چنانچہ فوراً بعد ارشاد فرمایا:
وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ
"اور یاد رکھو ان آیاتِ الٰہی اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں۔"
یہ بھی واضح دلیل ہے کہ یہاں گفتگو انہی گھروں کی ہو رہی ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام فرماتے تھے، اور جن کی امین اور شاہد ازواجِ مطہرات تھیں۔
یہ ایک نہایت اہم حقیقت ہے کہ دین کے بے شمار احکام، خصوصاً ازدواجی، گھریلو اور عائلی زندگی سے متعلق مسائل، امت تک ازواجِ مطہرات ہی کے ذریعے پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر بات، ہر عمل اور ہر خاموش تائید دین میں حجت ہے، اور آپ کی نجی و خانگی زندگی کے سب سے بڑے گواہ ازواجِ مطہرات ہی تھیں۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو امت دین کے اس عظیم باب سے محروم رہ جاتی۔
لہٰذا قرآنِ کریم کے اس پورے سیاق کو نظر انداز کرکے ازواجِ مطہرات کو آیتِ تطہیر کے مصداق سے خارج کر دینا نہ لغت کے مطابق ہے، نہ سیاقِ قرآن کے مطابق اور نہ ہی مفسرینِ امت کے منہج کے مطابق۔
حدیثِ کِساء اور آیتِ تطہیر کی عملی تفسیر
جیسا کہ پیچھے بیان کیا جا چکا ہے کہ آیتِ تطہیر کا سیاق ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے میں ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبارک عمل کے ذریعے ایک اور حقیقت کو بھی واضح فرما دیا تاکہ اس آیت کے مصداق کے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی باقی نہ رہے۔
چنانچہ متعدد صحیح اور حسن روایات سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو اپنی چادرِ مبارک میں جمع فرمایا، ان کے لیے خصوصی دعا کی اور آیتِ تطہیر کی تلاوت فرمائی۔ یہ واقعہ حدیث کی متعدد معتبر کتابوں میں مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہے، جن میں صحیح مسلم، جامع ترمذی، مسند احمد، مستدرک حاکم اور دیگر کتبِ حدیث شامل ہیں۔
پہلی روایت: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾۔
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیاہ اون کی چادر اوڑھے ہوئے باہر تشریف لائے۔ پہلے حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے، آپ نے انہیں چادر میں داخل کر لیا۔ پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے، وہ بھی چادر میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں، آپ نے انہیں بھی چادر میں لے لیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے، آپ نے انہیں بھی چادر میں شامل فرما لیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیتِ تطہیر کی تلاوت فرمائی۔
(حوالہ: صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل اہلِ بیت النبی ﷺ، حدیث: 2424)
دوسری روایت: حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا
حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ جَلَّلَ عَلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَ: أَنْتِ عَلَى خَيْرٍ.
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہم پر ایک چادر ڈال دی، پھر دعا فرمائی: "اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت اور میرے خاص افراد ہیں۔ ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں کامل پاکیزگی عطا فرما۔" حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: "یارسول اللہ! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟" آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "تم خیر پر ہو۔"
(حوالہ: جامع ترمذی، حدیث: 3787 - امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔)
اس روایت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چار مقدس ہستیوں کو اپنی چادر میں جمع فرمایا اور ان کے لیے خصوصی دعا کی تو حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے دل میں بھی یہ سعادت حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیا میں بھی اس شرف میں شامل ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "تم خیر پر ہو" یعنی تمہیں اس اعزاز کے حصول کے لیے اس چادر میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ قرآنِ کریم کے خطاب کے مطابق پہلے ہی اس خیر اور اس شرف سے بہرہ ور ہو چکی ہو۔
اہلِ بیتِ نبوت کے بارے میں اعتدال پر مبنی صحیح موقف
گزشتہ تمام گفتگو سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اہلِ بیتِ نبوت کا مسئلہ کسی ایک پہلو کو اختیار کرکے دوسرے پہلو کو رد کرنے کا نام نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی تمام نصوص کو سامنے رکھ کر سمجھنے کا نام ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو اہلِ بیتِ نبوت سے خارج کرتے ہیں۔ ان کا یہ موقف قرآنِ کریم کے سیاق و سباق کے خلاف ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کی اس خصوصی فضیلت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد مواقع پر بیان فرمائی۔ یہ رویہ بھی درست نہیں، کیونکہ حدیثِ کِساء اور دیگر احادیثِ مبارکہ سے واضح ہے کہ یہ چاروں مقدس ہستیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصی اہلِ بیت میں شامل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن و سنت دونوں کو جمع کرنے سے ایک متوازن اور جامع تصویر سامنے آتی ہے:
- ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت ہیں، کیونکہ قرآنِ کریم نے انہیں اسی گھرانے سے خطاب فرمایا اور انہیں خصوصی احکام عطا کیے۔
- حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیثِ کِساء میں انہیں خصوصی طور پر اپنی چادر میں جمع فرمایا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔
لہٰذا "حقیقی اہلِ بیت"، "اعزازی اہلِ بیت" یا اس طرح کی ایسی تقسیمات جن کی بنیاد قرآن و حدیث میں موجود نہیں، حقیقت کو واضح کرنے کے بجائے مزید الجھن پیدا کرتی ہیں۔ اہلِ بیتِ نبوت کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اہلِ خانہ کا ادب و احترام ملحوظ رکھیں۔ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا تقاضا ہے کہ آپ کی ازواجِ مطہرات کا احترام کیا جائے، اسی طرح آپ کی اولاد اور اہلِ کساء حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کی محبت و تعظیم بھی ایمان کا حصہ ہے۔
خلاصۂ کلام
مختصر یہ کہ:
- اہلِ بیتِ نبوت کا دائرہ وسیع ہے، اور اس میں وہ تمام مقدس ہستیاں شامل ہیں جنہیں قرآن و سنت نے اس شرف سے نوازا۔
- ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن بھی اہلِ بیتِ نبوت ہیں، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی خواتین اور قرآنِ کریم کے براہِ راست مخاطب ہیں۔
- حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم بھی اہلِ بیتِ نبوت ہیں، بلکہ حدیثِ کِساء کے ذریعے انہیں خصوصی فضیلت حاصل ہے۔
اس لیے اہلِ بیت کے بارے میں صحیح اور معتدل راستہ یہی ہے کہ نہ ازواجِ مطہرات کو اس شرف سے محروم کیا جائے، نہ اہلِ کساء کی خصوصی فضیلت کا انکار کیا جائے، اور نہ ایسی خود ساختہ اصطلاحات بنائی جائیں جو قرآن و سنت میں موجود نہیں۔
الحمدللہ اہلِ سنت والجماعت کا موقف یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اور حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سب اہلِ بیتِ نبوت ہیں، اور سب اپنی اپنی جگہ عظمت، احترام اور محبت کے مستحق ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کو صحیح سمجھنے، اہلِ بیتِ نبوت کی حقیقی محبت و تعظیم نصیب فرمائے، اور افراط و تفریط سے محفوظ رکھے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔